0
Saturday 20 Sep 2014 17:08

تکفیری دہشتگردی کیخلاف ریاستی دہشتگردی

تکفیری دہشتگردی کیخلاف ریاستی دہشتگردی
تحریر: ڈاکٹر رضا سیمبر

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نقاب چڑھائے اپنے قومی مفادات کی تکمیل کیلئے خارجہ پالیسی میں قلابازی لگا رہا ہے، لیکن حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ جان کری کی جانب سے یہ بیان کہ اسلامی جمہوریہ ایران دپشت گردی کی حامی حکومت ہے، انتہائی افسوسناک اور گستاخانہ بیان ہے۔ یہ دعویٰ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کی مذاکراتی ٹیم پوری سنجیدگی اور نیک نیتی سے مغربی طاقتوں کے ساتھ جاری جوہری تنازعات کے بارے میں ایک جامع اور پائیدار راہ حل تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ چند روز قبل امریکہ نے ایران کے خلاف بعض نئی پابندیوں کا بھی اعلان کر دیا ہے اور بعض یورپی ممالک میں موجود ایرانی اسٹوڈنٹس کو بھی وہاں سے نکال دیا گیا ہے۔ 
 
حقیقت یہ ہے کہ ریاستی دہشت گردی کے ضمن میں امریکی حکومت پہلے درجے کی ملزم حکومت ہے۔ ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ القاعدہ اور شدت پسند تکفیری گروہ نیو یارک کی مرضی اور ارادے سے معرض وجود میں آئے ہیں۔ ابھی نہیں معلوم اچانک کیا تبدیلی آئی ہے کہ امریکہ تکفیری دہشت گرد گروہ "داعش" کے خلاف جنگ کا علمبردار بن کر سامنے آگیا ہے اور تکفیری دہشت گردی کے خلاف ریاستی دہشت گردی کرنے لگا ہے؟ اس تحریر میں ہم نے مختصر انداز میں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ امریکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا علم بردار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اپنے بقول امن اور جمہوریت کی حفاظت کی خاطر خطے میں مسلح جنگ تک شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ امریکہ کا یہ دعویٰ خطے کے ممالک اور عالمی برادری کیلئے کس حد تک قابل قبول ہوسکتا ہے؟ اور بین الاقوامی تعلقات کے میدان میں اس دعوے کو کیسے چیلنج کیا جاسکتا ہے۔؟
 
امریکہ کی متضاد اور دوغلی سفارتکاری:
متضاد رویے امریکی سفارتکاری کا لاینفک حصہ ہیں، جس کی بہترین مثال انسانی حقوق کے بارے میں امریکی دعوے ہیں۔ اگر کوئی شخص بغیر کسی تحقیق کے سرسری طور پر انسانی حقوق سے متعلق امریکی پالیسیوں کا جائزہ لے تو شائد اسے یہ یقین حاصل ہو جائے کہ دنیا میں انسانی حقوق کا سب سے بڑا ہمدرد امریکہ ہی ہے اور دنیا میں جمہوریت پسندی اور انسانی حقوق کا علمبردار بھی امریکہ ہے۔ لیکن ایسے ٹھوس تاریخی شواہد موجود ہیں، جن سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ نے ہمیشہ سے جمہوریت اور انسانی حقوق جیسے ایشوز کو ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا ہے۔ امریکہ ان ایشوز کو ایسی حکومتوں پر سیاسی دباو کے آلہ کار کے طور پر استعمال کرتا ہے جو اس کے سامنے تسلیم نہیں ہوتیں، امریکی پالیسیوں کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہوتی ہیں۔ لیکن دوسری طرف اپنی پالیسیوں کی حامی اور اپنی کٹھ پتلی حکومتوں کی جانب سے انجام پانے والی انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں پر بھی آنکھیں موند لیتا ہے۔ مزید یہ کہ جب بھی امریکی حکومت یہ دیکھتی ہے کہ انسانی حقوق کی حمایت اس کے قومی مفادات کے حق میں نہیں تو بڑی آسانی سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے چشم پوشی کرتے ہوئے اپنے قومی مفادات کو ان پر ترجیح دیتی ہے۔ 
 
اسلامی جمہوریہ ایران اور سعودی عرب سے متعلق امریکی رویہ اور پالیسیاں اس امر کی واضح مثال ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد امریکہ نے اس کے خلاف شدید دشمنانہ اقدامات کا آغاز کر دیا اور اس دوران ایران پر سیاسی دباو ڈالنے اور بین الاقوامی سطح پر ایران کا چہرہ بگاڑ کر پیش کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کا ہتھکنڈہ استعمال کیا۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ سعودی عرب میں انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں کے باوجود امریکہ نے آج تک اس کے خلاف ایک اقدام بھی انجام نہیں دیا۔ اسی طرح خود امریکہ کے اندر بھی انسانی حقوق کی صورتحال کچھ زیادہ اچھی نہیں اور امریکی حکومت خود بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہوتی رہتی ہے۔ ہر سال دنیا کی مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں اور اداروں کی جانب سے امریکہ میں انجام پانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے اور ان کے خلاف آواز اٹھائی جاتی ہے۔ امریکہ کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے چند واضح نمونوں کے طور پر گوانٹانامو بے کی جیل اور امریکی پولیس کی جانب سے ڈیوڈ فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کو زندہ جلا دینے جیسے واقعات قابل ذکر ہیں۔ 
 
لہذا اگر ہم دیکھتے ہیں کہ امریکی حکام، جو روز اول سے تکفیری دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور پشتیبانی کرتے آئے ہیں اور انہیں ہر قسم کی مدد فراہم کرتے رہے ہیں، آج تکفیری دہشت گرد گروہ "داعش" کے خلاف شمشیر تانے کھڑے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کا علمبردار ہونے کے دعوے کر رہے ہیں تو ہمیں بالکل تعجب نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ متضاد رویے امریکی سفارتکاری اور خارجہ پالیسیوں کا اٹوٹ انگ ہیں۔ امریکہ کے ہر اقدام کا تجزیہ و تحلیل کرنے سے پہلے اس نکتے کی جانب توجہ ضروری ہے کہ امریکی پالیسیوں کی لازمی خصوصیت ان کا دوغلاپن ہے۔ امریکہ ظاہر کچھ اور کرتا ہے اور میدان عمل میں اقدام کچھ اور کرتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں امریکی پالیسیاں اور اقدامات قول و فعل میں تضاد کا واضح مصداق ہیں۔ یہ ایسی حقیقت ہے جس کے بے شمار نمونے امریکہ کی جدید تاریخ میں قابل مشاہدہ ہیں۔ البتہ اس نکتے کو بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ خود امریکی یونیورسٹیز کے کئی ماہرین سیاسیات اور امریکہ کی اہم شخصیات امریکی حکومت کے ان دوغلے رویوں کو پسند نہیں کرتے اور ہمیشہ اسے کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ 
 
امریکہ، ریاستی دہشت گردی کا بے تاج بادشاہ:
ماضی پر ایک مختصر نظر ڈالنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ دنیا بھر میں ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہاں اس نکتے کی جانب توجہ ضروری ہے کہ امریکی حکومت کسی قانون اور ضابطے کی پابند نہیں۔ امریکہ کے ریاستی دہشت گردی پر مبنی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے بنیادی کردار کا حامل ہے۔ امریکہ اپنے سیاسی اور حتی اقتصادی مفادات کی خاطر دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی حمایت یافتہ حکومتوں کو برکنار کرتا رہا ہے۔ یہ کوئی ایسی حقیقت نہیں جسے ثابت کرنے کی ضرورت ہو بلکہ لاطینی امریکہ اور کارائیب کے خطے میں امریکی ریاستی دہشت گردی کے واضح نمونے اور مثالیں موجود ہیں۔ اسی طرح عالمی سطح پر بھی امریکہ کسی محدودیت کا قائل نہیں اور اپنے استعماری مقاصد کے حصول کیلئے ہر خطے اور ملک میں مداخلت کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا۔ 
 
اسی طرح کسی تجزیہ نگار اور حتی عام لوگوں سے بھی یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکہ اس ضمن میں اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسیز کے اہم اتحادی کے طور پر سرگرم عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے انجام پانے والی بربریت اور فلسطینی مسلمانوں کی نسل کشی کے مقابلے میں امریکہ نے ہمیشہ سے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہے۔ ماضی میں صبرا اور شتیلا جیسے واقعات اور آج غزہ پر اسرائیلی جارحیت جس میں دو ہزار بیگناہ فلسطینی مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا، یہ درحقیقت امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ دہشت گردانہ اقدامات کی چند واضح مثالیں ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران بھی امریکہ کی ریاستی دہشت گردی سے محفوظ نہیں رہا۔ نوژے بغاوت سے لے کر ایران کے مختلف دہشت گرد گروہ جیسے مجاہدین خلق اور جنداللہ کی بھرپور حمایت امریکہ کا وطیرہ رہی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ ایران کے جوہری سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ جیسے مجرمانہ اقدامات میں بھی ملوث ہیں۔ 
 
مذکورہ بالا حقائق کی روشنی میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کی پیدائش اور اس کے خلاف موجودہ امریکی محاذ آرائی کا بھی تجزیہ پیش کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ اپنے سیاسی مفادات اور مقاصد کے حصول کیلئے کسی بھی اقدام سے دریغ نہیں کرتا۔ امریکہ داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کو معرض وجود میں لا کر انہیں ایک ٹشو پیپر کے طور پر استعمال کرتا ہے اور پھر جیسے ہی احساس کرتا ہے کہ اب ان کی ضرورت نہیں رہی، خود ہی میدان میں آ کر دہشت گردی کے خاتمے کا تمغہ بھی اپنے سینے پر سجانے کی کوشش کرتا ہے۔ 
 
خطے میں انتشار پھیلانے اور اختلاف ڈال کر حکومت کرنے والی پالیسی:
ایسے بے شمار ٹھوس شواہد اور ثبوت موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ مشرق وسطٰی کے ممالک کو توڑ کر چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تبدیل کر دینا چاہتا ہے۔ یہ امریکی پالیسیاں لیبیا سے لے کر عراق اور شام تک جاری ہیں۔ خطے میں موجود آمرانہ حکومتوں کی سرنگونی اور اس کے بعد ایک نئی مضبوط حکومت برسراقتدار نہ آنے دینا، اسی شیطانی منصوبے مقدمہ ہے۔ امریکہ اختلاف ڈالو اور حکومت کرو، کی پالیسی کے تحت خطے میں انتشار پھیلانے میں مصروف ہے۔ دوسرے الفاظ میں امریکہ خطے میں بدامنی اور انارکی پھیلانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔ لیبیا، شام اور عراق میں رونما ہونے والی صورتحال اسی منصوبے کے تحت معرض وجود میں لائی گئی ہے۔ بدامنی اور انتشار کا شکار مشرق وسطٰی امریکی حکام کا مطلوبہ ہدف ہے کیونکہ وہ ایسی صورتحال میں اپنے سیاسی مقاصد آسانی سے حاصل کرسکتے ہیں۔ اسی بدامنی کی بنیاد پر امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی کا جواز فراہم کرسکتا ہے، اپنے کارخانوں میں بننے والا اسلحہ اور فوجی ساز و سامان بیچ سکتا ہے اور خطے میں اپنے فوجی اڈوں کی تعمیر کے ذریعے اپنے زعم میں ایران کو بہتر انداز میں کنٹرول کرسکتا ہے۔ 
 
اس میں کوئی شک نہیں کہ خطے میں موجود تکفیری دہشت گرد عناصر محض چند ہوائی حملوں اور زمینی کارروائی سے مکمل طور پر ختم نہیں کئے جاسکتے۔ امریکی حکومت بھی القاعدہ، النصرہ فرنٹ اور داعش جیسے دہشت گرد گروہوں کو اپنے مفادات کے حصول کی خاطر ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کے ہتھکنڈوں سے بھی اچھی طرح آگاہ ہے، لہذا امریکہ ان گروہوں کو خطے میں بدامنی اور انتشار پھیلانے کیلئے استعمال کر رہی ہے، تاکہ اس بدامنی اور انتشار کے سائے میں اپنے سیاسی مفادات اور مقاصد کے حصول کو یقینی بناسکے۔ 
 
لہذا امریکی حکومت کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ کسی تشخص اور حیثیت سے عاری شدت پسند گروہوں اور اشخاص کو ایک ٹشو پیپر کے طور پر اپنے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے استعمال کرتا ہے اور اپنے مفادات کی تکمیل کے بعد جب دیکھتا ہے کہ اب ان کا کوئی کردار باقی نہیں رہا تو خود ہی انہیں نابود کرنے کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ سفارتی زبان میں اسے مختصر مدت کیلئے شاطرانہ استحصال یا “Short-term tactical exploitation” کہا جاتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے اس اقدام کی ایک اور واضح مثال صدام حسین کے دور میں عراق کی ہے۔ امریکہ نے ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد عراق کے ڈکٹیٹر صدام حسین کو ایک عفریت اور جعلی طاقت کے طور پر پیش کیا، اسے اربوں ڈالر کی مدد فراہم کی، بے انتہا سفارتی اور لاجسٹک سپورٹ دی، لیکن آخر میں اس کا انجام کیا ہوا؟ جب امریکی خارجہ سیاست کی شطرنج میں اس کا کردار ختم ہوا تو اسے نابود کر دیا۔ 
 
یہ تاریخی واقعات امریکہ کے تمام پٹھووں اور آلہ کار حکومتوں اور شخصیات کیلئے درس عبرت ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ ماضی کے تجربات سے عبرت حاصل کرتے ہوئے امریکہ کے فریب میں نہ آئیں۔ امریکی حکومت دوسروں کا شاطرانہ استحصال کرنے میں حد درجہ مہارت رکھتی ہے۔ القاعدہ اور ملا محمد عمر کی سربراہی میں طالبان کی حکومت اس امریکی رویے کے دو واضح نمونے ہیں۔ امریکی حکومت کسی بین الاقوامی سفارتی یا اخلاقی قاعدے اور اصول کی پابند نہیں، جس کی واضح مثال صدام حسین کے گلے میں پھانسی کے پھندے کے طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ 
 
نتیجہ:
ماضی پر ایک نظر دوڑانے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی حکومتیں اور گروہ امریکہ کے اس شیطانی ہتھکنڈے کا شکار ہوئی ہیں، جو ایک مضبوط سیاسی تشخص کے حامل نہیں تھے۔ مثال کے طور پر ملا محمد عمر، وہابی تکفیری دہشت گرد گروہ، صدام حسین، معمر قذافی، حسنی مبارک وغیرہ وغیرہ۔ ان گروہوں اور اشخاص میں موجود تشخص کے بحران کے باعث امریکہ ان کا استحصال کرنے اور ان پر سوار ہونے میں کامیاب رہا ہے اور جب مطلب پورا ہوگیا تو انہیں استعمال شدہ ٹشو پیپر کی طرح تاریخ کی ڈسٹ بن میں ڈال دیا۔ تکفیری دہشت گرد گروہ "داعش" کی کہانی بھی یہی ہے۔ داعش ایک ایسا گروہ ہے جو کسی واضح سیاسی تشخص کا حامل نہیں، اس کے مالی منابع کے بارے میں کچھ معلوم نہیں اور اس کے اہداف و مقاصد کا بھی کسی کو علم نہیں۔ داعش نے اب تک جو کام انجام دیا ہے وہ امریکی سیاست خارجہ کے میدان میں ایک آلہ کار کے طور پر کردار ادا کرنا ہے۔ امریکی حکام ایسے گروہوں کو خود ہی معرض وجود میں لاتے ہیں اور مطلب پورا ہوجانے کے بعد خود ہی انہیں نابود کر دیتی ہے۔ 
 
لہذا مشرق وسطٰی سے متعلق امریکہ کے شیطانی منصوبوں جیسے گریٹر مڈل ایسٹ اور نیو مڈل ایسٹ کیلئے سب سے بڑا خطرہ ایسے ممالک اور قومیں ہیں، جو مضبوط ثقافتی اور سیاسی تشخص کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مستحکم اور پائیدار سیاسی نظام کو متعارف کروانے اور عمل کے میدان میں اسے حقیقت کا رنگ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایسے ممالک اور قوموں میں اسلامی جمہوریہ ایران کا نام سرفہرست ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ایرانی قوم حقیقی اسلامی اصولوں کی بنیاد پر ایک نیا سیاسی نظام متعارف کروانے میں کامیاب رہی اور آج تقریباً چار عشرے گزر جانے کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ کی سربراہی میں عالمی استعماری طاقتیں اس نظام کو توڑنے کی سرتوڑ کوششیں کرچکے ہیں، لیکن خداوند متعال کی نصرت اور مدد کے باعث ان کے تمام شیطانی منصوبے ناکامی کا شکار ہوئے ہیں۔ ایران کی اس کامیابی میں انقلاب اسلامی ایران کے بانی امام خمینی (رہ) اور ان کے بعد ولی امر مسلمین جہان امام خامنہ ای مدظلہ العالی کی شخصیت نے انتہائی بنیادی اور بے مثال کردار ادا کیا ہے۔

اسلامی انقلاب کے بعد ایران میں معرض وجود میں آنے والے نئے سیاسی نظام کی بنیاد نظریہ ولایت فقیہ پر استوار ہے۔ ولی فقیہ کی شخصیت دراصل حقیقی اسلام شناس ہونے کے ساتھ ساتھ تقویٰ، بصیرت اور سیاسی سمجھ بوجھ کے اعلٰی مدارج پر فائز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اس ملک نے نہ صرف علم، ٹیکنالوجی، دفاعی ٹیکنالوجی اور صحت کے شعبوں میں بہت تیزی سے ترقی کی ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک اسلامی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے اور دنیا والوں کو عالمی استعماری طاقتوں اور ان کی شیطانی پالیسیوں کے خلاف ڈٹ جانے کا پیغام دیتے ہوئے اس ضمن میں انہیں ایک بہترین عملی نمونہ بھی فراہم کیا ہے۔ 
 
خبر کا کوڈ : 410678
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب