1
0
Wednesday 19 Jun 2019 20:33
کوشش ہے کہ جی بی میں بھی ملی یکجہتی کونسل کی تنظیم سازی ہو

گلگت بلتستان انتخابات میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، شیخ میرزا علی

نون لیگ کے دور حکومت میں جی بی میں ملت جعفریہ کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی
گلگت بلتستان انتخابات میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، شیخ میرزا علی
شیخ میرزا علی معروف عالم دین اور اسلامی تحریک گلگت بلتستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری ہیں، انکا تعلق ضلع نگر سے ہے، چونکہ جی بی کے عام انتخابات کو سال سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے، اس لیے اسلام ٹائمز نے شیخ میرزا علی سے آنیوالے انتخابات، جی بی کے مجموعی مسائل اور مذہبی جماعتوں کے کردار کے حوالے سے گفتگو کی ہے، جو کہ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے۔(ادارہ)

اسلام ٹائمز: گلگت بلتستان کے عام انتخابات کیلئے سال سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے، تیاری کیا ہے، مذہبی جماعتیں خصوصاً اسلامی تحریک کا کیا کردار ہوگا۔؟
شیخ میرزا علی: ظاہر ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کیلئے سیاسی ایام اور سیاسی ماحول بہت اہم ہوتا ہے، سب سے بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ہم سیاست میں آئے کیوں؟ پاکستان کا نظام ایک جمہوری نظام ہے، جمہوری ممالک کے اندر پارلیمنٹ میں ہر سیاسی جماعت کی نمائندگی ہوتی ہے اور ہر سیاسی جماعت قوت فیصلہ رکھتی ہے، لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان میں محسوس کیا گیا کہ یہاں پر مسلکی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جاتے ہیں، اس کی وجہ سے فقہ جعفریہ کے پیروکاروں میں بعض خدشات اور تحفظات پائے جاتے ہیں، اس بنیاد پر پاکستان کے قومی دھارے میں بحیثیت ملت کے ایک کردار ہونا چاہیئے تھا، اسی بنیاد پر تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے پلیٹ فارم سے سیاسی عمل کا آغاز کیا گیا، اس کے بعد لوگوں کے اندر شکوک پیدا ہو رہے تھے کہ یہ لوگ ملک میں فقہ جعفریہ کا نفاذ چاہتے ہیں، لہٰذا اس نام کو مختصر کر دیا گیا اور تحریک جعفریہ رکھا گیا۔

لیکن ملک میں بیلنس کی پالیسی کے تحت اس پر پابندی لگی تو بعد میں اسلامی تحریک پاکستان کے طور پر ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے موجود ہے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اندر باقاعدہ رجسٹرڈ ہے اور الیکشن کمیشن میں سالانہ بنیادوں پر اپنے گوشوارے جمع کراتے ہیں، بعد میں کالعدم ہونے کی وجہ سے کچھ مسائل کا سامنا رہا لیکن الیکشن کمیشن کی جانب سے باقاعدہ اجازت نامہ جاری ہونے کے بعد الیکشن میں حصہ لیا گیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ مسائل آج بھی موجود ہیں جو پہلے تھے، کیونکہ یہاں ملک خصوصاً گلگت بلتستان کے اندر مسلکی بنیادوں پر اقدامات ہوتے ہیں، لوگوں کے اندر احساس محرومی کو دور کرنے کیلئے اسلامی تحریک پاکستان نے سیاست میں قدم رکھا اور ان شاء اللہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔ الیکشن کے حوالے سے ابھی سے تیاریاں کر رہے ہیں، یہ تیاریاں جلد عوام کے سامنے آئیں گی۔

اسلام ٹائمز: مذہبی جماعتیں کامیاب جلسہ کرتی ہیں لیکن الیکشن میں کامیاب نہیں ہوتیں، آخر کیوں۔؟ 
شیخ میرزا علی:
جی ہاں، یہاں پر بین الاقوامی حالات بھی کارفرمار ہیں، ظاہر ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ہم دیکھیں تو مذہبی نمائندگی کرنے والے ممالک آج بھی زیر عتاب ہیں، اسی بنیاد پر حتیٰ الامکان کوشش کی جاتی ہے کہ مذہبی جماعتوں کی عوام کے اندر پذیرائی نہ ہو، ان کیلئے مشکلات پیش آئیں، دیکھیں عوام کی اپنی ضروریات ہوتی ہیں، ان کے ترقیاتی منصوبے ہوتے ہیں، ان کے روزگار کا مسئلہ ہوتا ہے، ابھی اسی دورانیے کے اندر اسلامی تحریک پاکستان گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن میں موجود ہے اور پھر اپوزیشن ممبران کے ترقیاتی فنڈز کی کٹوتی کا مسئلہ بہت گھمبیر ہے، سارے مسائل کا ملبہ مذہبی جماعتوں پر گرتا ہے، جب یہ ملبہ مذہبی جماعتوں کے اوپر گرتا ہے تو اس کے اثرات عوام پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: انتخابات میں مذہبی جماعتوں خصوصاً اسلامی تحریک اور ایم ڈبلیو ایم کا اتحاد کیوں نہیں ہوتا۔؟
شیخ میرزا علی: کوششیں جاری ہیں، 2015ء کے الیکشن میں بھی مقامی سطح پر کوششیں کی گئیں اور ہم نے اس طرح کی تمام کوششیں کو سراہا اور ساتھ دیا، تاکہ ایک مشترکہ لائحہ عمل مرتب کیا اور مشکلات پر قابو پایا جاسکے، لیکن ایسا نہیں ہوسکا، پھر بھی ہم آج بھی اتحاد و وحدت کے داعی ہیں، اس کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا آپشن بھی کھلا ہے، انتخابی اتحاد بھی ہوسکتا ہے، لیکن اس طرح کے اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کیلئے ایک ماحول میسر آنا ضروری ہے۔

اسلام ٹائمز: ماحول تو رہنما پیدا کرتے ہیں، کیا یہ ذمہ داری لیڈران کی نہیں؟ کیونکہ عوام تو اپنے لیڈروں کو ہی فالو کر رہے ہوتے ہیں۔؟
شیخ میرزا علی:
ہاں یقیناً ذمہ داری انہیں کی ہے، میں عرض کرچکا ہوں کہ ہم نے 2015ء میں بھی کوشش کی تھی، مقامی سطح پر ہر ممکن کوشش کی کہ سب ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور سیاسی عمل کا حصہ بنیں، ہم اتحاد کے منکر نہیں ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی عمل کو  بغیر کسی اختلافات کے آگے بڑھایا جائے، بدقسمتی سے یہ کامیاب نہ ہوسکا، اب ان شاء اللہ آئندہ کیلئے سوچ رہے ہیں اور مذہنی جماعتوں بشمول اسلامی تحریک، ایم ڈبلیو ایم کے اتحاد کیلئے اقدامات ہو رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: نون لیگ کی صوبائی حکومت کا دور ملت جعفریہ کیلئے کیسا رہا۔؟
شیخ میرزا علی:
موجودہ مدت میں جو چیز محسوس کی گئی، وہ یہ ہے کہ تمام چیزیں اور اقدامات تنگ نظری کی بنیاد پر کیے گئے۔ اس خطے کی آئینی حیثیت کو خراب کرنے میں صوبائی حکومت کا بنیادی کردار رہا اور عوام کے اندر تشویش پیدا کرنے کی بھی کوشش کی گئی، جبکہ اعلیٰ سطح پر نمائندگی نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے ظاہر ہے لوگوں کے اندر عدم اعتماد کی فضاء پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے اور جو اقدامات یہاں پر کیے گئے، وہ خالصتاً تنگ نظری کی بنیاد پر کیے گئے، جس کی وجہ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ گلگت بلتستان کے اندر بسنے والی ملت جعفریہ کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی۔

اسلام ٹائمز: تو موجودہ صورتحال کے تناظر میں آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوسکتا ہے۔؟
شیخ میرزا علی:
اس میں آئینی حقوق کے حوالے سے جو جماعت سنجیدہ ہو اور گلگت بلتستان کے مسائل کو قومی اور عالمی سطح پر اٹھا سکے، ہمارا نقطہ اتحاد یہی ہوگا، کوشش ہے کہ تمام جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے گذشتہ پانچ سال کا تجزیہ کیا جائے اور اس کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔

اسلام ٹائمز: آئینی حیثیت کے حوالے سے اسلامی تحریک کے رہنمائوں نے وفاقی وزیر امور کشمیر سے ملاقات کی تھی، جس میں آپ بھی شامل تھے  اور انہوں نے کئی وعدے کیے تھے جو وفا نہ ہوئے، آپکی نظر میں پی ٹی آئی کی حکومت جی بی کیساتھ کس حد تک سنجیدہ ہے۔؟
شیخ میرزا علی: چونکہ اس وقت صرف ٹیبل ٹاک اور سیاسی جماعتوں کے نعروں پر ہی پیشرفت چل رہی ہے، لیکن یہ پیشرفت آگے جا کر پھر ختم ہو جاتی ہے، ابھی حال ہی میں وفاقی وزیر امور کشمیر نے ہمیں خود کہا تھا کہ ہم پارلیمنٹ میں ایکٹ لا رہے ہیں اور وہ ایکٹ میں خود پیش کرونگا، لیکن بعد میں خود مکر گئے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی بھی یہ معاملات آئندہ الیکشن تک اخبارات میں رکھنا چاہتی ہے، تاکہ وہ الیکشن میں اپنے لیے ایک ماحول پیدا کرسکے اور عوام کی نظروں میں سنجیدگی دکھائی جاسکے، لیکن یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ یہ جماعت گلگت بلتستان کو وہ مقام نہیں دے سکتی، جس کا وہ ستر سال سے مطالبہ کرتے آرہے ہیں، اس کیلئے مقامی سطح پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا، یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

اسلام ٹائمز: ماضی میں گلگت میں کافی خون خرابہ رہا، اب امن ہے، اس امن کا کریڈٹ کس کو جاتا ہے۔؟
شیخ میرزا علی:
میں یہاں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان میں کوئی شیعہ سنی مسئلہ موجود ہی نہیں۔ یہاں پر ایک گیم کھیلی جا رہی ہے، بات یہ ہے کہ بعض لوگوں کے مفادات ہیں، ان کا مفاد لڑائی میں ہو تو یہ پالیسی اپناتے ہیں، لیکن اگر ان کا مفاد خاموشی میں ہو تو پالیسی تبدیل ہوتی ہے۔

اسلام ٹائمز: امن کیلئے عوامی ایکشن کمیٹی کا بھی ایک کردار ہے، اسکو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔؟
شیخ میرزا علی:
ہاں میں نے پہلے ہی کہا کہ یہاں کوئی شیعہ سنی کا مسئلہ نہیں، عوامی ایکشن کمیٹی کا بھی ضرور کردار ہے، ہم کوششوں میں لگے ہیں کہ ملی یکجہتی کونسل کی یہاں تنظیم سازی ہوسکے۔ اس سے مذہبی ہم آہنگی کو مزید فروغ ملے گا۔ پرآشوب حالات میں بھی ہمارے رابطے ہوتے تھے، مختلف مسالک کے نمائندوں کے ساتھ نشستیں ہوتی تھیں، اس کے باؤجود جب ماحول کشیدہ ہو تو فطری طور پر اس کے اثرات تو لوگوں پر پڑتے ہیں، لیکن میں ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ گلگت بلتستان میں کوئی شیعہ سنی مسئلہ نہیں۔

اسلام ٹائمز: سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں خطے کا مستقبل کیا نظر آتا ہے۔؟
 شیخ میرزا علی:
یہ خطہ سی پیک کا گیٹ وے ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ اس ملک کو ہم نے 28 ہزار مربع میل کا علاقہ آزاد کرکے بھی دیا اور اب ملک کی اقتصاد کی ریڑھ کی ہڈی بھی ہم ہی ہیں، اس کا وفاق اور ریاست کو ادراک ہونا چاہیئے۔ اگر یہاں پر خدانخواستہ تشویش بڑھ جاتی ہیں اور محرومیاں مزید بڑھتی ہیں تو حالات کچھ اور ہوسکتے ہیں۔ اس اہم خطے کو کبھی سر اور کبھی دھڑ، کبھی ماتھے کا جھومر کہا جاتا ہے، لیکن اکیسویں صدی میں بھی اس خطے کو آئین کے زمرے میں نہیں لایا گیا، یہ سوالیہ نشان ہے، ایک چیز واضح ہے کہ پاکستان کے آئین کے اندر جانے کیلئے آخری حد تک بھی جایا جاسکتا ہے۔ دیکھیں ہم تو استحکام پاکستان کے داعی ہیں، ہم نے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب لوگوں میں یہ سوچ آگئی ہے کہ یہ خطہ متنازعہ ہے تو وہ تمام چیزیں جو ایک متنازعہ خطے کو حاصل ہوتی ہیں، وہ ہمیں بھی ہونی چاہئیں، اگر اس خطے کو آئینی حیثیت دینے میں کوئی رکاوٹیں ہیں تو ان رکاوٹوں کو ختم ہونے تک سٹیٹ سبجیکٹ رول بحال ہونا چاہیئے۔

اسلام ٹائمز: کہا جاتا ہے کہ آئین میں شامل ہونے سے بہت سی رعایتیں ختم ہو جائیں گی، مثلاً ٹیکس چھوٹ اور سبسڈی وغیرہ۔؟
شیخ میرزا علی:
ہم تو پہلے ہی بہت سارے ٹیکس دے رہے ہیں، بہت سارے قوانین اور آئین یہاں نافذ ہیں، آئین کے نہ ہوتے ہوئے بھی یہاں کئی قوانین نافذ ہیں، اصل بات ہماری شناخت ہے۔ ویسے بھی دنیا بھر میں یہ دستور ہے کہ ہارڈ ایریاز کو خصوصی سہولیات دی جاتی ہیں، کیونکہ یہ پہاڑی علاقے ہوتے ہیں اور پسماندہ ہوتے ہیں، یہ علاقے قدرتی آفات کی زد میں ہوتے ہیں، اس لیے دنیا بھر میں ہارڈ ایریاز کو خصوصی رعایتیں دی جاتی ہیں، لیکن گلگت بلتستان کے عوام کو ایک بھکاری کے طور پر پیش کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔
خبر کا کوڈ : 800419
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

محمد علی
Pakistan
800419
یہ لوگ کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ لوگ آپس کی رنجش کی خاطر کرپٹ اور ظالم پارٹیوں کے مددگار بنتے رہیں گے۔۔۔ ان کی مثال مرسی سے کم نہیں۔۔۔ یہ لوگ بصیرت سے محروم اور عقل سے پیدل ہیں۔
منتخب