0
Saturday 7 Jun 2014 08:31

ایرانی سفارتکار کی سرینگر میں سید علی گیلانی سے ملاقات

ایرانی سفارتکار کی سرینگر میں سید علی گیلانی سے ملاقات
اسلام ٹائمز۔ ایرانی سفارتکار نے سید علی گیلانی کیساتھ ملاقات کی، جس دوران بزرگ کشمیری حریت رہنما نے کہا کہ ایران کو تنازعہ کشمیر کے حتمی حل میں اپنا رول ادا کرنا چاہئے، ایرانی سفارتکاروں کا وفد وہاں کے سفیر برائے بھارت غلام حسن رضا انصاری کی قیادت میں جمعہ کو کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی کی رہائش گاہ پر پہنچا اور انہوں نے بزرگ مزاحمتی لیڈر کے ساتھ ایک گھنٹے تک ملاقات کی، اس موقعے پر علی گیلانی کے تئیں اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے غلام حسن رضا نے کہا کہ ایران کشمیریوں کی اپنے پیدائشی حقوق کے لئے جدوجہد کی حمایت کرتا ہے اور وہ اس تنازعے کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق حل کا متمنی ہے۔ گھر آئے مہمان کو تنازعہ کشمیر کی تاریخ سے واقف کراتے ہوئے سید علی گیلانی نے کہا کہ برصغیر جن اصولوں اور شرائط کے ساتھ تقسیم ہوا تھا، ان کے مطابق کشمیر کسی بھی طور بھارت کا حصہ نہیں بن رہا تھا، ریاست میں اس وقت مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 85 فیصد تھا اور جغرافیائی طور بھی اس کا بھارت کے ساتھ کوئی تعلق بننا ممکن نہیں تھا۔

سید علی گیلانی نے کہا کہ انگریز، بھارتی اور ڈوگرہ حکمرانوں اور کشمیری قیادت کی ملی بھگت سے کشمیر کو غیر اصولی اور غیر فطری طریقے سے بھارت کی جھولی میں ڈال دیا گیا اور جب سے اس خطے میں سیاسی غیر یقینیت اور عدمِ استحکام کی صورتحال نے جنم لیا، انہوں نے کہا کہ آگے چل کر بھارت خود اس قضئے کو اقوامِ متحدہ میں لیکر گیا اور عالمی برادری نے متفقہ طور کشمیریوں کے استصواب رائے کی حمایت کی اور جموں کشمیر کے مستقبل کے حتمی تعین کے لیے یہاں رائے شماری کرانے کی سفارش کی، بھارت نے بھی تسلیم کرلیا کہ کشمیر کا مستقبل کشمیریوں کی رائے کو نظرانداز کرکے طے نہیں کیا جاسکتا ہے اور بھارتی حکمرانوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر وعدہ کیا کہ وہ حالات کے ٹھیک ہوتے ہی کشمیر میں ریفرنڈم کرانے میں تعاون کریں گے اور زبردستی قابض رہنے کے بجائے لوگوں کی رائے کا احترام کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے وعدوں سے مکر گیا اور وہ ملٹری طاقت کی بنیاد پر اپنے قبضے کو جاری رکھنا چاہتا ہے، جموں کشمیر کے عوام اپنے حق استصواب کے حصول کے لیے ایک پرامن جدوجہد کررہے ہیں اور بھارت اس جدوجہد کو دبانے کے لیے ان پر بے پناہ مظالم ڈھارہا ہے، جموں کشمیر میں بھارتی فوج اور اس کے معاون فورسز کے ہاتھوں جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین نے ایرانی سفارتکار سے کہا کہ پچھلے 24 سالوں کے دوران میں ایک لاکھ لوگوں کو ہلاک کیا گیا ہے، دس ہزار کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ اور اتنی ہی تعداد کو ماورائے عدالت قتل کردیا گیا ہے۔ 7 ہزار کے لگ بھگ بے نام قبریں دریافت ہوگئی ہیں، جن کے بارے میں معلوم ہی نہیں کہ فوج نے ان میں کن لوگوں کو دفن کردیا ہے، بھارتی افواج خواتین کی تذلیل کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں اور آج تک ساڑھے 7 ہزار خواتین کی یا تو اجتماعی عصمت دری کی گئی ہے یا ان کے ساتھ دست درازی کی گئی ہے، مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی کے رول کا تذکرہ کرتے ہوئے سید علی گیلانی نے کہا کہ ایران کو مسئلہ کشمیر کے حتمی حل میں خود بھی رول ادا کرنا چاہیے اور اُسے او آئی سی کے پلیٹ فارم کو اس مقصد کے لیے استعمال کرانے کی پاکستانی حکومت کی کوششوں کا بھی سپورٹ کرنا چاہیے۔
خبر کا کوڈ : 389816
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب
ہماری پیشکش