0
Friday 14 Oct 2011 13:16

کرم ایجنسی میں نئے امن معاہدے کے متعلق عوامی خدشات پر مبنی اسلام ٹائمز کی خبر کی تصدیق

کرم ایجنسی میں نئے امن معاہدے کے متعلق عوامی خدشات پر مبنی اسلام ٹائمز کی خبر کی تصدیق
پاراچنار: اسلام ٹائمز۔کرم ایجنسی میں نئے امن معاہدے کے متعلق عوامی خدشات پر مبنی اسلام ٹائمز کی خبر کی تصدیق، معاہدے کی حقیقت سامنے آ گئی۔ نام نہاد امن معاہدے کا ٹل پاراچنار روڈ کھلنے سے کوئی تعلق نہیں بلکہ صرف اور صرف طالبان نواز افراد کو پاراچنار میں دوبارہ آباد کروانا ہے۔ مصدقہ ذرائع اور ایک انگریزی اخبار ایکسپریس ٹرائبون میں چھپنی والی رپورٹ کے مطابق اس نام نہاد امن معاہدے کا ٹل پاراچنار روڈ کھلنے جو کرم ایجنسی میں امن و امان کے قیام میں واحد رکاوٹ ہے، اس معاہدے میں نہ تو روڈ کھلنے کا ذکر ہے اور نہ ہی اہل تشیع کے بے دخل قبائل کا صدہ لوئر کرم و دیگر علاقوں میں آباد کاری کا بلکہ صرف اور صرف پاراچنار میں طالبان نواز شرپسند سپاہ صحابہ کے افراد کی آبادکاری کا معاہدہ ہوا ہے۔ بدقسمتی سے اس معاہدے میں حکومت کے ساتھ ساتھ کچھ مذہب و ملت کا سودا کرنے والے نام نہاد شیعہ مشران و ذمہ داران بھی شامل ہیں۔
پاراچنار کرم ایجنسی کے عوامی و سماجی حلقوں اور شہداء کے خانوادگان نے اسلام ٹائمز سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے چودہ سو سے زائد شہداء اور پانچ ہزار سے زائد زخمی و مجروح ذلت پر مبنی فیصلے قبول کرنے کے لئے نہیں دئیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں مگر عزت و برابری کے ساتھ۔، نہ کہ نام نہاد امن کے نام پر ذلت اور طالبان نواز سپاہ صحابہ کے دہشت گردوں کا پاراچنار شہر میں راج۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاراچنار شہر میں ان دہشتگردوں کے جانے کے بعد مثالی امن قائم ہے ،عوام تو عوام، حکومت و سکیورٹی فورسز پر بھی کوئی حملہ نہیں ہوا، حکومت و خفیہ اداروں میں موجود بعض کالی بھیڑیں ان دہشت گردوں کی آمد کے نام پر ایک بار پھر پاراچنار شہر کو طالبان دہشتگردوں کے حوالے کر کے علاقے میں فساد اور ملک کے دیگر علاقوں کی طرح خودکش حملے کروانا چاہتی ہے، اسلئے پاراچنار کے عوام اس نام نہاد فسادی و یکطرفہ معاہدے کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ اسمیں ایک درجن سے زائد مرتبہ امن معاہدے کو توڑنے والے طالبان دہشت گردوں اور ان کے مقامی ہمدرد سنی سپاہ صحابہ کے خلاف نہ ہی کسی قسم کی کاروائی کا ذکر کیا گیا ہے اور نہ ہی پانچ سال سے ان دہشت گردوں کے ہاتھوں بند ٹل پاراچنار روڈ کے کھلنے کا کوئی ذکر موجود ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب تک ٹل پاراچنار روڈ کو محفوظ بنا کر کھولا نہیں جاتا اس وقت تک کرم ایجنسی میں امن لانا احمقوں کی جنت میں رہنا کے برابر ہے۔ یہاں ثبوت کے طور پر انگریزی اخبار ایکسپریس ٹرائبون کی رپورٹ کا لنک بھی دیا جا رہا ہے۔
http://tribune.com.pk/story/271501/kurram-agency-peace-deal-tribal-elders-to-enforce-pact-in-parachinar-only/ Delete ReplyReply ForwardSpamMovePrint Actions NextPrevious
خبر کا کوڈ : 105942
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب