1
0
Wednesday 20 Feb 2019 14:07

ولی عہد کا دورہ پاکستان اور سفارتی آداب کی کھلی خلاف ورزی

ولی عہد کا دورہ پاکستان اور سفارتی آداب کی کھلی خلاف ورزی
تحریر: نادر بلوچ

اس میں کلام نہیں کہ ملکوں کے درمیان تعلقات کی بنیاد باہمی مفادات ہی ہوا کرتے ہیں، جب مفادات کا ٹکراو ہوتا ہے تو معاملات نہ صرف خراب ہوتے ہیں بلکہ اس سے انسانی المیے بھی جنم لیتے ہیں، افغان جنگ میں پاکستان نے ملکی اور ریجنل مفاد کے بجائے امریکی مفاد کی جنگ لڑی، جو اب ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ اس جنگ کا ہمسایوں پر بھی اثر ہوا اور دہشت گردی کی ایسی فصل اُگی، جو اب کاٹتے کاٹتے بھی نہیں کٹ پا رہی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب افغانستان بھی ہمیں دوست کے بجائے دشمن سمجھنے لگ گیا ہے اور اس نے بھارت کی زبان بولنا شروع کر دی ہے، اس سب کی بنیادی وجہ ہماری ماضی کی غلط پالیسیاں ہیں، اس لیے ماضی کے تلخ تجربات ملک کی سیاسی و عسکری قیادت سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ وہ ایسے کیسی فیصلے کا حصہ نہ بنیں، جو ملک کی بنیادیں تک ہلا دیں، پہلے ہی جہاں 100 ارب ڈالر کا نقصان کرا چکے ہیں، وہیں 80 ہزار سے زائد پاکستانی دہشتگردی کا رزق بن چکے ہیں۔ اس بات کا اظہار خود وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب میں بھی کیا ہے اور بھارت کو ہوش کے ناخن لینے کا کہا ہے۔

یہ بات بھی حیران کن ہے کہ پاکستان کے تین ہمسائے اس سے تنگ پڑ گئے ہیں، یعنی تین ہمسائیوں کو صرف ایک ہی ہمسائے سے تکلیف ہے، پہلے فقط مشرقی سرحد گرم رہتی تھی، پھر آہستہ آہستہ ہماری غلط پالیسیوں نے مغربی سرحد کو بھی گرم کر دیا، ان پالیسیوں کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جہاں افغانستان میں دشمن نے کام کر دکھایا ہے، وہیں اب شمالی وزیرستان میں پی ٹی ایم کی شکل میں ایک تحریک شروع ہوچکی ہے، غلط یا صحیح الگ بحث، لیکن یہ سوچنے کا مقام ہے کہ آخر یہ ہو کیوں رہا ہے؟، واحد 900 کلومیٹر پر محیط پاک ایران سرحد ٹھنڈی تھی، لیکن دہشتگردوں کی ایران میں پے در پے کارروائیوں نے اس کو بھی گرم کرنا شروع کر دیا ہے، اب ایران پاکستانی علاقوں میں گھس کر دہشتگردوں کے مقامات کو نشانہ بنانے کے ارادے کا اظہار کر رہا ہے۔ یہ سوچنے کا مقام ہے کہ تین ہمسائے بیک وقت ایک مشترکہ ہمسائے سے کیوں تنگ پڑ گئے ہے۔ پاکستانی قیادت ایران سے ثبوت فراہم کرنے اور تعاون کرنے کی بات کر رہی ہے، جبکہ ایران نے اپنی تحقیقات کو حتمی شکل دے دی ہے، ایران کی انقلابی گارڈ کونسل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے دہشتگردوں کے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرلی ہے اور 27 شہداء کے قاتل کا نام تک پتہ چلا لیا ہے، جس کا تعلق پاکستان سے ہے۔ ایرانی انقلابی گارڈ کونسل کے مطابق خودکش دھماکہ کرنے والے کا نام حافظ محمد علی ہے، جو ایک اور ساتھی کے ساتھ ایران داخل ہوا اور اس نے تین مقامی ایرانی سہولتکاروں کی مدد لی۔ اس گٹھ جوڑ تک پہنچنے کے لیے ایک عورت کو حراست میں لیا گیا، جس نے باقیوں کی شناخت کی۔

سعودی ولی عہد کے دورے سے قبل ہی یہ باتیں ہونا شروع ہوگئی تھیں کہ سعودیہ بیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے نتیجے میں پاکستان سے کیا لے گا؟، کہیں پاکستان دہشتگردی کے عالمی سرکس کا پھر سے تو حصہ نہیں بننے والا؟، کہیں امریکا، اسرائیل، سعودی عرب اور بھارت کٹھ جوڑ میں تو شریک نہیں ہو رہا؟ وارسا کانفرنس نے پہلے ہی ان معالک کے گٹھ جوڑ کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دیا ہے، یہ باتیں چل ہی رہی تھیں کہ سعودی ولی عہد کے دورے کے دوران سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے تمام سفارتی آداب کو پاوں تلے روندتے ہوئے ایران پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ عادل الجبیر نے شاہ محمود قریشی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران بحیثیت ریاست خطے میں دہشت گردی کو نہ صرف ہوا دے رہا ہے بلکہ براہ راست ملوث ہے۔ تجزیہ کار اس بات پر حیران ہیں کہ آخر سعودی وزیر خارجہ نے اپنے گندے کپڑے پاکستان میں ہی کیوں دھوئے ہیں، عادل الجبیر سے پہلے شاہ محمود قریشی نے صحافی ہی کے سوال پر جواب دیا کہ پاکستان ایران میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ پر پریشان ہے اور انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب سے فون کرکے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ شاہ محمود نے کوشش کی کہ سوالات کم ہوں اور ایران سے متعلق کوئی سوال نہ ہو، مگر ایسا نہ ہوسکا اور سعودی وزیر خارجہ نے کہہ ڈالا کہ ان کے پاس بہت وقت ہے۔

ایران سعودی مسائل سے ہٹ کر پوری قوم کو یقین تھا کہ سعودی ولی عہد کے دورے کے دوران ضرور مظلوم کشمیریوں کو یاد رکھا جائے گا اور بھارتی مظالم کی دو ٹوک الفاظ میں مذمت کی جائے گی، مگر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے کشمیر کے معاملے پر ایک لفظ تک ادا نہ کیا گیا اور کشمیر پر بیان مشترکہ اعلامیہ کا حصہ نہ بن سکا، کلی بات کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیئے میں کہا گیا کہ جہان اسلام میں مظلوموں کی حمایت کرتے ہیں، تجزیہ کار حیران و پریشان ہیں کہ ایک اسلامی ملک کا نام لیکر اسے دہشتگرد ملک قرار دیا گیا، مگر اسی ہزار سے زائد کشمیریوں کے قاتل ملک کا نام لینے سے کیوں احتراز کیا گیا؟، حتیٰ کلبھوشن یادیو جس کے خلاف عالمی عدالت میں کیس دائر ہے، جس کے پاکستان میں دہشتگردی کرانے کے اعترافی بیانات تک موجود ہیں، اس بارے بھی خاموشی اختیار کی گئی، وجہ واضح رہے کہ محمد بن سلمان کا اگلا پڑاو جو ہندوستان تھا، ایسے میں وہ کیسے کھل کر کشمیر کاز پر پاکستان کی حمایت کرسکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے ہمیشہ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے، بھارتی مظالم کی مذمت کی اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق کشمیر کے حل پر زور دیا ہے، حتیٰ ثالثی کا کردار ادا کرنے کی بھی پیش کش کی گئی ہے۔ ایران میں کشمیر میں کانفرنسز تک ہوچکی ہیں اور یوم کشمیر پر بل بورڈز تک لگائے گئے ہیں۔ کتنی عجیب بات ہے کہ ستر سال گزر گئے مگر دوست اور دشمن واضح نہ ہوسکا، یا پھر کچھ مفاد پرست جان بوجھ کر دشمن کے آلہ کار بننے کی کوشش میں ہیں، سرمایہ کاری ضرور کروائیں، مگر کسی ہمسائے کی قربانی کی قیمت پر نہیں۔ یاد رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس دو ٹوک انداز میں کہا تھا کہ ایران کے ہندوستان کے ساتھ تعلقات پاکستان کی قیمت پر نہیں ہیں، ایسے میں پاکستان کو بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ کہیں یہ تعلقات کسی دوست کی قیمت پر نہ ہوں۔ ورنہ تمام سرحدیں گرم رہیں گی اور ویلفیئر ریاست کا تصور محض تصور ہی رہے گا۔
خبر کا کوڈ : 779010
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

حسن گلاب خان بلوچ
Pakistan
بہت ہی درست تجزیہ ہے....
منتخب