1
15
Tuesday 2 Jun 2020 18:30

امام خمینی ؒ کے ابتدائی دور کی جیو پولیٹیکل صورتحال

امام خمینی ؒ کے ابتدائی دور کی جیو پولیٹیکل صورتحال
تحریر: محمد سلمان مہدی

ہم نے جس دور میں تعلیمی کیریئر کا آغاز کیا، تب تعلیمی نظام پرائمری سے شروع ہوتا تھا۔ پہلی جماعت کا عرصہ دو حصوں میں تقسیم تھا۔ کچی پہلی اور پکی پہلی۔  آج کل مانٹیسوری، کے جی وغیرہ زیادہ معروف اصطلاحات ہیں۔ مگر یہ کچی پہلی سے بھی پہلے کے مراحل ہیں۔ امام خمینیؒ جیسی ہستیوں سے متعلق جب لکھا جاتا ہے تو ان کی پروفائل یا بائیو گرافی لکھنے والے چند پہلوؤں کو غیر اہم یا نسبتاً کم اہم سمجھ کر مکمل نظرانداز کر دیتے ہیں۔ آج کا وہ نوجوان جو اپنے اور اپنے گرد و پیش کے حالات کو تبدیل کرنے کے جذبے سے سرشار ہے، یا ہر وہ شخص جس کا آئیڈیل امام خمینی ؒ ہیں، اسے تاریخ کے ان نظر انداز پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیئے۔ یعنی جب جدید دور میں اسلام شناسی، ایران شناسی، انقلاب شناسی اور امام خمینی شناسی کی بحث ہو تو بات کم سے کم 1902ء سے شروع ہو اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ کم سے کم اس کا آغاز امام خمینی کی ولادت سے ایک نسل پہلے کی تاریخ پر ایک مختصر سی نگاہ ڈالتے ہوئے کیا جائے اور یہ آغاز بھی جدید ایران شناسی و امام خمینیؒ شناسی کی حد تک اس طرح کیا جائے۔

ورنہ حکومت شناسی و نظام شناسی کی ذیل میں تو معاملہ صدر اسلام تک جانا لازمی قرار پائے گا، کیونکہ یہ نظام ولایت ہے اور وہاں سے یہ سلسلہ غیبت حضرت ولی عصر عج سے آیات عظام جناب نائینی و نراقی صاحبان تک پہنچانا ہوگا اور پھر اسے امام خمینی ؒ نے اس موضوع پر جو نجف اشرف میں تاریخی خطاب فرمائے، ان سے جوڑنا ہوگا۔ اس حقیر کی نگاہ میں عام آدمی کے سامنے تاریخ اور تاریخی شخصیات سے متعلق اور خاص طور پر امام خمینی ؒ پر پی ایچ ڈی سے پہلے پری پرائمری، مانٹیسوری، کے جی کلاسز ضرور ہونی چاہئیں۔  اس کے بعد پرائمری، سیکنڈری، ہائیر سیکنڈری اور دیگر مراحل۔ اس طرح ایسی ہستیوں سے متعلق زیادہ بہتر انداز میں موجودہ اور اگلی نسلیں آشنائی حاصل کرسکیں گی۔

اگر امام خمینی ؒ سے متعلق پری پرائمری نصاب مرتب کریں تو بہت ہی دلچسپ حقائق سے آشنا ہوتے ہیں۔ انیسویں صدی میں ایران اور اس پورے خطے کی تاریخ۔   عبرت ہائے تاریخ کے عنوان سے اگر مورخین نگاہ ڈالیں تو انیسویں صدی میں استکباری اور استعماری طاقتیں یہاں براہ راست یا بالواسطہ حکمران تھیں۔ مادر وطن کے غیرت مند بیٹے جھکنے اور بکنے پر تیار نہیں تھے، بلکہ مقاومت کیا کرتے تھے۔ امیر کبیر میرزا تقی خان بادشاہ کی مخالفت کے باوجود ملک و قوم کے مفاد میں تعمیری منصوبوں میں مصروف رہے۔ اسی جرم میں قاجاری شاہ کے حکم پر پہلے انہیں کاشان جلاوطن کر دیا گیا اور بعد ازاں 1852ء میں قتل کر دیا گیا۔ انیسویں صدی کے چھٹے عشرے میں غیر منقسم ہند میں برطانوی نوآبادی سامراج کے خلاف بغاوت 1857ء میں کچل کر رکھ دی گئی تھی۔ یہ امیر کبیر کی شہادت کے پانچ سال بعد کے واقعات تھے، جو ہند میں ہوئے۔

لیکن ایران اور موجودہ عراق میں برطانوی مداخلت کے خلاف شدید مزاحمت کا سلسلہ جاری رہا۔ انیسویں صدی میں جب دنیا بھر سے زایونسٹ صہیونی نسل پرست بیت المقدس پر قبضے کے لئے نقل مکانی میں مصروف تھے، تب عراق اور ایران میں موجود بعض شیعہ اسلامی مراجعین، فقہاء و علماء برطانوی سامراج کے اثر و نفوذ کو مسترد کرنے کی تحریک کی قیادت کر رہے تھے اور تمباکو کے کاروربار پر برطانوی اجارہ داری کے خلاف ان کی تحریک تمباکو کامیاب ہوئی۔ ایران میں تب قاجاری خاندان شاہ کے عنوان سے حاکم تھا، یعنی بیسیویں صدی کے آغاز میں جب امام خمینی ؒ کی پیدائش ہوئی، تب ایران میں قاجاری خاندان کی موروثی بادشاہت قائم تھی۔ ان کی مطلق العنانیت اور بدعنوانی اور غیر ملکی مداخلت سے بے زار ایرانی آئینی تحریک چلا رہے تھے۔

اس کے نتیجے میں سن 1906ء میں پہلا باقاعدہ تحریری آئین اور اس کے تحت پارلیمنٹ قائم ہوئی۔ اس آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک سال بعد ہی اس پورے نظام کو لپیٹ دیا گیا۔ مگر ایرانی قوم کو ایسے علماء و زعماء میسر تھے، جو مسلسل مزاحمت کر رہے تھے۔ شاہ و شیوخ و سلطان کے مقابلے میں وہ شرعی اسلامی قوانین کی حاکمیت کو مملکت کے آئین کا حصہ بنانے کی جدوجہد میں کامیاب ہو رہے تھے۔ جس وقت ترک بمقابلہ عرب اور نجدی بمقابلہ حجازی پیادے استکباری و استعماری بساط پر شاطر کے مہرے بنے ہوئے تھے، تب ایران میں شیعہ علمائے کرام اسلام ناب محمدی و امت اسلامی کی بقاء کی جنگ لڑنے میں مصروف تھے۔ یہ بیسویں صدی کی تاریخ کا محض ایک رخ تھا۔ لیکن دوسرا رخ انتہائی مایوس کن تھا، کیونکہ بیسویں صدی عالم اسلام و انسانیت کے خلاف استعمار و استکبار کی کامیاب سازشوں کے ساتھ شروع ہوئی اور پوری بیسویں صدی استعمار و استکبار کی تقسیم کرو اور راج کرو پالیسی کا مظہر بن کر گزری، ان کی خو آج تک نہ بدلی۔

ایک طرف یہ منظر نامہ تھا۔ دوسری طرف یعنی ایران میں برطانیہ اور روس کی مداخلت اور قاجاری حکومت کی مطلق العنانیت اور بیرونی طاقتوں کے مقابلے میں سرنگونی، آئینی تحریک کی کامیابی کے بعد ناکامی اور پھر دوبارہ ایرانی مزاحمت۔ ان حالات میں پہلی جنگ عظیم کا آغاز ہوا تو ایران نے غیر جانبداری کی پالیسی وضع کی، لیکن ایران میں مداخلت کرنے والی سامراجی طاقتوں نے اس کی بھی خلاف ورزی کی۔  پہلی جنگ عظیم میں ایک جانب عرب مسلمانوں کو مرکزی سلطنت عثمانیہ کے خلاف صف آراء کیا گیا۔ دوسری جانب یہی عرب پس پردہ استکباری طاقتوں کی بچھائی ہوئی بساط پر ایک دوسرے سے جنگ بھی کرتے نظر آئے۔ صرف سیاسی یا جیو پولیٹیکل یا جیو اسٹرٹیجک لحاظ سے ہی نہیں بلکہ افکار کی جنگ لڑنے کے لئے ادیبوں کی صفوں میں بھی استعمار و استکبار کو اپنے مطلب کے نام ور افراد مل گئے  اور آج تک پوری دنیائے اسلام و عرب میں اسی دور کا استکباری و استعماری نیٹ ورک ہر مرتبہ اسی طرح آلہ کار بن کر سامنے آتا ہے، جیسے محمد بن عبدالوہاب نجدی اور اس کے پیروکار ابن سعود نجدی۔

اقبالیات کے لحاظ سے بات کی جائے تو فرزیں سے بھی پوشیدہ تھا شاطر کا ارادہ!۔   شریف مکہ و مدینہ کو شاہ حجاز بننے کا آسرا تھا، مگر شاطر نے نجد کے آل سعود کو حجاز مقدس پر مسلط کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور ایسا ہوکر رہا۔ شاید ہاشمی خاندان اپنے اجداد کے مزارات کو ابن سعود نجدی کی طرح منہدم و مسمار نہیں کرسکتا تھا اور اگر شریف مکہ و مدینہ حسین بن علی ہاشمی خادم حرمین شریفین بن جاتے تو وہ ترک سلطنت عثمانیہ سے زیادہ عالم اسلام کے لئے قابل قبول ہوتے اور اتنا زیادہ مقبول خادم حرمین شریفین عالمی استکبار کے لئے قابل قبول نہیں تھا۔ اس لئے پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر سلطنت عثمانیہ کے سقوط کے بعد مکہ و مدینہ میں مقامی حکومت کی تبدیلی بھی کر ڈالی۔ یاد رہے کہ امام خمینی کا سال پیدائش 1902ء بتایا جاتا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران وہ لڑکے تھے اور انہدام جنت البقیع کے وقت وہ نوجوان تھے۔ دوسری جنگ عظیم کے آغاز کے وقت وہ جوان تھے، یعنی دنیا اور اس مسلمان خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال سے متعلق بخوبی آگاہ تھے۔

باوجود این کہ مواصلاتی نظام موجودہ دور کی نسبت اتنا ترقی یافتہ نہیں تھا، لیکن اس وقت بھی عراق سے ایران کا تعلق بہت زیادہ مستحکم تھا اور عراق ہی اس وقت ترک سلطنت اور برطانوی سامراج کے مابین معرکے کا اہم محاذ تھا اور عراق پر برطانوی تسلط کے خلاف مسلح مزاحمت کے لئے انقلابی عراقی علماء کے ساتھ عراق میں موجود ایرانی فقہاء اور خاص طو پر مرجع آیت اللہ شیرازی کا قائدانہ کردار تھا۔ شیعہ اسلامی مرجعیت اور اس کے پیروکار عراقیوں اور ایرانیوں نے ہی برطانوی سامراج کے تسلط کے خلاف مسلح مقاومت کا آغاز کیا تھا اور یہی وجہ تھی کہ برطانوی سامراج نے ترک سلطنت کے سقوط کے بعد جب جغرافیائی تبدیلیوں کے ساتھ نئے ملک بنا کر وہاں اپنی مرضی کا سیٹ اپ مسلط کیا تو اس میں اعلانیہ اور خفیہ دونوں طریقوں سے دیندار مذہبی و عملی شیعہ مسلمانوں کو ریاستی نظام سے کاٹ کر رکھ دیا۔ مذہبی و اقتصادی لحاظ سے شیعہ خوشحال تھے، لیکن بعد میں عراق میں شیعوں کا سماجی مقام و مرتبہ بھی بتدریج پست کر دیا، کیونکہ استعماری و استکباری طاقتوں کو معلوم ہے کہ تقسیم کرو اور حکومت کرو پالیسی ہی ان کو یہاں کا اصل حاکم بنائے رکھنے میں مددگار رہے گی۔

ایران بھی مسلسل تحولات کی زد پر رہا۔ سانحہ امیر کبیر سے لے کر سردار ملی عسکری کمانڈر ستار خان کی مظلومانہ شہادت تک ایک اہم مقاومتی مرحلہ رہا۔ ستار خان کی شہادت کے وقت امام خمینی کی عمر 6 برس تھی۔ ایران کی آئینی تحریک کے نامور رہنما آیت اللہ حسن مدرس برطانوی سامراج کے مسلط کردہ رضا خان کی حکومت اور اس کے غیر ملکی آقا کے خلاف عوامی بیداری مہم چلاتے رہے۔ انہوں نے 1925ء میں غیر قانونی طریقے سے اقتدار پر قبضہ کرنے والے جنرل رضا خان کے رضا شاہ پہلوی بننے کی شدید مخالفت کی تھی۔ جس پر رضا خان حکومت نے 1926ء میں آیت اللہ حسن مدرس پر قاتلانہ حملہ کروایا۔ بعد میں شاہ رضا خان ہی کے حکم پر ان کو زہر کے ذریعے شہید کر دیا گیا۔  اس وقت 1938ء میں امام خمینی کی عمر 36 برس تھی، یعنی پہلی جنگ عظیم سے قبل از دوسری جنگ عظیم تک جیوپولیٹیکل صورتحال یہ تھی اور دوسری جنگ عظیم کے آغاز پر ایران میں عارضی طور پر اسے اقتدار چھوڑنا پڑا۔

البتہ جب برطانیہ کو پتہ چلا کہ اس کا مہرہ جرمنی کے ساتھ مفاہمت کرچکا ہے تو عین دوسری جنگ عظیم کے دوران 1941ء میں روس اور برطانیہ نے ایران پر حملہ کرکے قبضہ کیا اور رضا شاہ سے اقتدار چھین کر اسی کے بیٹے محمد رضا پہلوی کے حوالے کر دیا۔ اس دوران علماء کی صفوں میں علمائے سو پہلوی شاہ کے قصیدہ خواں بننے لگے۔ ان میں سرفہرست علی اکبر حکمی زادہ تھے، جنہوں نے 1943ء میں ہزار سالہ پراسراریت کے عنوان سے مضمون لکھا۔  اس کے جواب میں امام خمینی نے کشف الاسرار یعنی اسرار کو کھولنا یا کھول کر پیش کرنا کے عنوان سے کتاب لکھی۔ علماء و طلاب و حوزوی تقسیم ختم کرنے کے لئے اتحاد قائم کرنے کے لئے امام خمینیؒ نے آیت اللہ بروجردی کو قم آنے کی دعوت دی۔ یہ 1945ء کا واقعہ ہے کہ جب جنگ عظیم دوم اختتام کی جانب گامزن تھی۔

امام خمینی ؒ کی پیدائش سے ایک نسل قبل اور ان کی زندگی کے ابتدائی 43 برسوں تک کی زندگی کے ان چند اہم واقعات کے پس منظر میں سمجھا جاسکتا ہے کہ امام خمینی ؒ کے سیاسی افکار کی ڈیولپمنٹ میں ان کے ارد گرد، ملک کے اندر اور بین الاقوامی تحولات نے کتنا اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ مغربی استکبار و استعمار کی اس جدید شکل کو اس کے ابتدائی مراحل سے دیکھتے آرہے تھے۔ اس لئے ان کا ردعمل ان کمپرومائزنگ رہا۔ وہ ایک ہستی رسمی طور پر جامع الشرائط فقیہ سے بہت پہلے جامع الصفات بن چکے تھے۔ جدید ترین مسائل کا دقیق علم، تجزیہ و تحلیل کی انتہائی ماہرانہ صلاحیت اور درست طریقہ تدارک، یہ اہم صفات ان میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ انہی خداداد صلاحیتوں کی بدولت انہوں نے درست وقت میں درست اقدامات کے ذریعے استکبار و استعمار کی سازشیں ناکام کر دیں۔ (اس عنوان کے تحت مزید لکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ اگر قارئین کی خواہش ہوگی تو مزید لکھا جاسکتا ہے، ورنہ اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔)
خبر کا کوڈ : 866209
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

اکبر حسین
Iran, Islamic Republic of
سلام علیکم. اس موضوع کو سلسله وار جاری رکھیں۔ وقت کی ضرورت ہے۔
ہماری پیشکش