0
Wednesday 6 Aug 2014 10:48

مشرق وسطیٰ کی تقسیم کیلئے عالمی استکبار کی شیطانی حکمت عملی

مشرق وسطیٰ کی تقسیم کیلئے عالمی استکبار کی شیطانی حکمت عملی
تحریر: احد نوری اصل

گذشتہ کئی سالوں سے مشرق وسطٰی کے خطے میں شدت پسندی اور فوجی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ سیاسی اور بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین نے اس شدت پسندی کی کئی وجوہات بیان کی ہیں۔ بعض کی نظر میں اس کی بنیادی وجہ بیرونی مداخلت ہے جبکہ بعض دوسروں کا خیال ہے کہ مشرق وسطٰی میں پائی جانے والی شدت پسندی کی اصل وجہ وہاں موجود شدت پسند گروہ ہیں۔ اسی طرح بعض سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شدت پسندی مشرق وسطٰی کے ممالک کے درمیان پائے جانے والے باہمی تناو اور تنازعات کی وجہ سے ہے۔

اس بات کے مدنظر کہ کسی بھی معاشرتی اور اجتماعی عمل میں متعدد عوامل دخیل ہوتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ مذکورہ بالا وجوہات میں سے کسی ایک کو مشرق وسطٰی میں موجود شدت پسندی اور بدامنی کی واحد وجہ قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ تمام عوامل ایک حد تک اس امر میں موثر ہیں۔ اس تحریر کا مقصد عالمی طاقتوں کی سرپرستی میں مشرق وسطٰی کے خطے میں انجام پانے والے شدت پسندانہ فوجی اور سیاسی اقدامات کے پیچھے کارفرما حقیقی عوامل اور اسباب پر روشنی ڈالنا ہے۔ اسی طرح مغربی طاقتوں کی جانب سے مشرق وسطٰی کے خطے میں شدت پسند گروہوں کی تشکیل اور ان کی مالی اور فوجی معاونت کے ذریعے سیاسی، اجتماعی اور اقتصادی عدم استحکام پھیلانے کی کوششوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس امر کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ یہی اقدامات درحقیقت خطے میں موجود شدت پسندی اور بدامنی کی حقیقی وجہ ہیں۔

یہاں اس نکتے کی جانب توجہ ضروری ہے کہ مذکورہ بالا حقیقی وجہ اور سبب کی بنیاد بھی ایک منحوس مثلث پر استوار ہے۔ یہ منحوس مثلث جو اسرائیل کے تحفظ کی خاطر مشرق وسطٰی کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنے کیلئے تشکیل دی گئی ہے، عالمی استعماری قوتوں کا شاخسانہ ہے، جنہوں نے خاص طور پر خلافت عثمانیہ اور صفویہ دور حکومت کے خاتمے کے بعد اس منحوس منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ یہ منحوس مثلث حقیقت میں مشرق وسطٰی میں انجام پانے والے تمام فوجی اور سیاسی شدت پسندانہ اقدامات اور رویوں کا منشاء ہے، جس کا اصلی مقصد مشرق وسطٰی کے ممالک کو اپنے اندرونی مسائل میں الجھا کر رکھ دینا ہے۔ یہ شیطانی مثلث درحقیقت عالمی استعماری طاقتوں کی جانب سے مشرق وسطٰی کے ممالک کو تحفے میں ملی ہے۔ اب ہم اس کے تینوں اضلاع کا بغور جائزہ لیتے ہیں:

1۔ قومی اور مذہبی اختلافات کا فروغ:
ماضی میں جب ترکی میں سلطنت عثمانیہ برسراقتدار تھی اور ایران میں صفویہ بادشاہی سلسلہ حاکم تھا تو عالم اسلام میں موجود طاقت کے ان دو مراکز کے درمیان بعض اوقات مذہبی تناو اور کشمکش دیکھنے کو ملتی تھی۔ اس وقت بھی ان تنازعات اور تناو میں بیرونی قوتوں کے ملوث ہونے کے بارے میں کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں تھا۔ بیرونی قوتیں خاص طور پر یورپی ممالک، مغرب میں سلطنت عثمانیہ کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ اور مشرق میں صفویہ سلسلہ حکومت کی بڑھتی ہوئی طاقت سے شدید ہراساں تھیں، لہذا آئے دن عالم اسلام کی ان دونوں مرکزی حکومتوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے اور ان کے درمیان جنگ کی آگ بھڑکانے کیلئے منحوس سازشیں کرتے رہتے تھے۔ آخرکار انہیں سازشوں کے نتیجے میں خلافت عثمانیہ اور صفویہ سلسلہ حکومت کا خاتمہ عمل میں آیا۔ لیکن داستان یہاں ختم نہ ہوئی اور سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے نتیجے میں کئی چھوٹی اور بڑی ریاستیں معرض وجود میں آگئیں۔ عالمی استعماری طاقتوں نے نہ فقط شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دینا شروع کر دی بلکہ گذشتہ چند عشروں کے دوران القاعدہ، طالبان، داعش اور النصرہ فرنٹ جیسے بیشمار شدت پسند گروہوں کو جنم دے کر انہیں پوری طرح مسلح کر دیا اور اس طرح عالم اسلام میں فرقہ واریت، کینہ، نفرت، باہمی ٹکراو، منافقت، خوف، وحشت وغیرہ کی آگ بھڑکا کر اپنے منحوس شیطانی اہداف کی تکمیل کیلئے کوشاں ہوگئیں۔

لہذا عالمی استکباری طاقتوں کی جانب سے عالم اسلام میں فرقہ واریت اور دشمنی کے بیج بونے کا کام سلطنت عثمانیہ اور صفویہ سلسلہ حکومت کے خاتمے کے بعد رکا نہیں بلکہ اس میں مزید شدت آگئی اور عالمی طاقتوں نے عالم اسلام پر اپنے تسلط کی تکمیل اور ہمیشگی کیلئے مسلمانان عالم کے درمیان تفرقہ افکنی اور اختلاف ڈالنے کو ایک مستقل اسٹریٹجی کے طور پر اپنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اگرچہ عالم اسلام کے جید اور حقیقی شیعہ اور سنی علمای کرام نے اس منحوس سازش کو بھانپتے ہوئے ہمیشہ سے اتحاد بین المسلمین پر بھرپور تاکید کی ہے، لیکن عالمی استکباری قوتوں کے آلہ کار شدت پسند نام نہاد اسلامی گروہوں نے اپنے آقاوں کے سیاسی اہداف کی تکمیل کیلئے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اور خطے کو صحیح معنوں میں جہنم بنا ڈالا ہے۔ ان حالات کا سب سے زیادہ نقصان شام اور عراق جیسے ممالک کو ہوا ہے۔ صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اب عراق کی تقسیم کے ناپاک منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ اگر عراق میں یہ منحوس سازش کامیابی کا شکار ہوجاتی ہے تو اگلے قدم پر دوسرے اسلامی ممالک میں بھی مشابہ اقدامات کے دہرائے جانے کے قوی امکانات موجود ہیں۔

دوسری طرف عالمی استکباری قوتوں نے عالم اسلام میں قومی اختلافات اور تنازعات کا بازار بھی گرم کر رکھا ہے۔ وہ مختلف اسلامی ممالک میں مختلف شدت پسند نسلی اور قومی گروہوں کو تشکیل دے کر ان کی مالی اور فوجی مدد کر رہے ہیں۔ عالمی استعماری قوتیں ان علیحدگی پسند دہشت گرد گروہوں کے ذریعے فارس، عرب، ترک، کرد، بلوچ، پنجابی، مہاجر وغیرہ جیسی مختلف قوموں کے درمیان نسلی تعصب پھیلانے اور لسانی جھگڑے شروع کروانے میں مصروف ہیں۔ مثال کے طور پر اس وقت عراق میں کردوں اور عربوں کو ایک دوسرے کے خلاف اکسایا جا رہا ہے اور انہیں اسلحہ بھی فراہم کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ترکی میں کرد اور ترک کا تعصب پھیلایا جا رہا ہے جبکہ پاکستان میں پنجابی، پختون، سندھی، بلوچ اور اردو اسپیکنگ کے درمیان دشمنی اور تعصب کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے۔ یا ایران میں اگرچہ خطے کے موجودہ حالات کے برعکس انتہائی اعلٰی سکیورٹی اور امن و امان کی صورتحال پائی جاتی ہے لیکن اسلام دشمن طاقتوں کی پوری کوشش ہے کہ پژواک، کوملہ اور جنداللہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کے ذریعے اس امن کے گہوارے کو بھی جہنم میں تبدیل کر دیں۔ اس بڑھتی ہوئی قوم پرستی اور مذہبی و قومی تعصب نے خطے کے اکثر ممالک کی قومی سلامتی اور ملکی سالمیت کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، جس کے باعث مشرق وسطٰی کے ممالک کی جغرافیائی حدود کو تبدیل کرنے کے منصوبوں میں زیادہ سنجیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔

2۔ سرحدی اختلافات کو ہوا دینا:
مغربی طاقتوں کی جانب سے قومی اور مذہبی فرقہ واریت پھیلائے جانے کے نتیجے میں سلطنت عثمانیہ ٹوٹ کر کئی بڑے اور چھوٹے نئے ممالک میں تقسیم ہوگئی، جن کی جغرافیائی حدود غیر حقیقی اور مصنوعی بنیادوں پر مشخص کی گئیں۔ عالمی استعماری قوتوں نے اس زمرے میں بھی بھرپور شیطنت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بڑی مہارت سے معرض وجود میں آنے والی نئی ریاستوں کی جغرافیائی حدود کی بنیاد کسی قومی، مذہبی یا تاریخی حقیقت پر استوار نہ کی بلکہ جان بوجھ کر اس انداز میں تقسیم بندی انجام دی کہ مستقبل میں بھی ان ممالک کے درمیان فتنہ گری اور شیطنت کرنے کا زمینہ باقی رہے۔ نئی ریاستوں کی جغرافیائی حدود میں جان بوجھ کر ابہام چھوڑ دیا گیا اور مختلف ثقافتوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے خطوں کو ایک ریاست کا حصہ بنا دیا گیا۔ اس تقسیم بندی کے تحت اکثر مواقع پر ایک ہی قوم سے تعلق رکھنے والے خطے کو کئی ریاستوں میں بانٹ دیا گیا، جس کے باعث ایک قوم کے افراد بٹ کر کئی مختلف ممالک کا حصہ بن گئے۔ اس تقسیم بندی کے نتیجے میں نت نئے سرحدی تنازعات سامنے آنے لگے اور نہ ختم ہونے والے ثقافتی، اقتصادی اور اجتماعی اختلافات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ مثال کے طور پر صفویہ سلسلہ حکومت اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان جنگوں کے نتیجے میں ایران سے علیحدہ ہونے والے اکثر علاقوں کو سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد ترکی، عراق اور شام جیسے ممالک کا حصہ بنا دیا گیا۔

مشرق وسطٰی کے ممالک کے درمیان پائے جانے والے سرحدی تنازعات راکھ میں چھپی ہوئی وہ چنگاریاں ہیں جو کسی بھی وقت شعلہ ور ہو کر خطے میں سیاسی یا فوجی تصادم کا باعث بن سکتی ہیں۔ گذشتہ چند عشروں کے دوران انہیں سرحدی تنازعات کے باعث مشرق وسطٰی کے خطے میں کئی تباہ کن جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ ان کی ایک واضح مثال عراق اور کویت کے درمیان پہلی خلیجی جنگ ہے، جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عراق کے سابق ڈکٹیٹر حکمران صدام حسین کویت کو اپنے ملک کا ایک صوبہ قرار دیتے تھے۔ اسی جنگ کے باعث امریکہ کو بھی خطے میں فوجی موجودگی کا بہانہ ہاتھ آیا۔ اس سے پہلے عراق اور ایران کے درمیان آٹھ سالہ جنگ میں بھی صدام حسین کی جاہ طلبی اور سرحدی تنازعات کا اہم کردار رہا ہے، اگرچہ اس کے علاوہ بھی کئی علاقائی اور بین الاقوامی سطح کے عوامل اس جنگ کے آغاز کا باعث بنے تھے۔

مذکورہ بالا موارد کے علاوہ جو خطے کیلئے مغربی استعماری طاقتوں کا تحفہ قرار دیئے جاسکتے ہیں، خطے میں موجود ایسے کئی سرحدی تنازعات کی جانب اشارہ کیا جاسکتا ہے جن کے باعث دو ہمسایہ مسلم ممالک ایکدوسرے کے خلاف صف آراء ہوچکے ہیں۔ مثال کے طور پر متحدہ عرب امارات، عمان اور سعودی عرب کے درمیان تیل سے مالامال علاقے العدید کی مالکیت پر تنازعہ یا متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان بوریمی، خور العدید اور سبرخہ کے علاقوں پر حاکمیت کا تنازعہ وغیرہ۔ اس مسئلے کی شدت کو بیان کرنے کیلئے اسی نکتے کی جانب اشارہ کافی ہے کہ صرف خلیج عرب ریاستوں کے درمیان اس وقت تقریباً 20 سے زائد سرحدی تنازعات موجود ہیں۔ ان سرحدی تنازعات نے نہ فقط ہمسایہ مسلم ممالک کو ایکدوسرے کے مقابل لاکھڑا کیا ہے بلکہ مشرق وسطٰی کی ریاستوں کے ٹوٹنے اور تقسیم ہونے کا زمینہ بھی ہموار کر دیا ہے۔

3۔ مرکزی حکومتوں کی تضعیف:
خطے میں تقسیم اور ٹوٹ پھوٹ کو شدت بخشنے کیلئے عالمی استعماری قوتوں نے قومی، مذہبی اور سرحدی اختلافات کو ہوا دینے کے علاوہ مشرق وسطٰی میں موجود مغرب مخالف حکومتوں کو کمزور کرنے کی کوششیں بھی جاری رکھی ہوئی ہیں۔ جب تک کسی ملک میں ایک مضبوط اور طاقتور مرکزی حکومت موجود ہوتی ہے، وہاں کسی قسم کی علیحدگی پسند تحریک یا گروہ خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر پاتا، کیونکہ حکومت اپنی رٹ برقرار رکھنے کیلئے کافی حد تک طاقت اور صلاحیت سے برخوردار ہوتی ہے اور ملک میں اٹھنے والے علیحدگی پسند طوفانوں کا بخوبی مقابلہ کرسکتی ہے۔ مشرق وسطٰی میں ایسی مستحکم اور طاقتور مرکزی حکومت کی بہترین مثال اسلامی جمہوریہ ایران کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے مرکزی طاقت اور اقتدار سے برخوردار ہونے کے ناطے عراق کی جانب سے اپنے اوپر تھونپی گئی آٹھ سالہ جنگ کا بھی بخوبی مقابلہ کیا ہے اور اسلامی انقلاب کے آغاز پر اور بعد میں معرض وجود میں آنے والے علیحدگی پسند اور دہشت گرد گروہوں کو بھی بہت اچھے انداز میں کنٹرول کیا ہے۔ لہذا مشرق وسطٰی جیسے ناامن خطے میں اسلامی جمہوریہ ایران امن کے جزیرے کے طور پر چمکتا دمکتا دکھائی دیتا ہے۔

ایک ملک کی سالمیت اور قومی سلامتی میں مضبوط اور طاقتور مرکزی حکومت کے کردار کو اچھی طرح سمجھنے کیلئے بعض ایسے ممالک کا جائزہ لینا ضروری ہے، جو صرف اس وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئے کہ وہاں کی مرکزی حکومت کمزوری اور ضعف کا شکار ہوچکی تھی۔ مثال کے طور پر 1971ء میں ایران میں پہلوی خاندان کی حکومت کے دوران مرکزی حکومت کی کمزوری کے باعث بحرین کو ایران سے توڑ کر ایک علیحدہ ریاست بنا دیا گیا۔ اسی طرح ان دنوں مغربی طاقتوں خاص طور پر امریکہ کی جانب سے عراق کی مرکزی حکومت کو کمزور کرنے کیلئے انجام پانے والے اقدامات کا مقصد بھی اس اسلامی ملک کو کئی چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کرنا ہے۔ عراق میں جاری خانہ جنگی، شدت پسندی اور دہشت گردانہ اقدامات کا مقصد مرکزی حکومت کے اقتدار اور طاقت کو کمزور کرتے ہوئے قومی اور مذہبی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر ظاہر کرنا ہے۔ امریکہ اور مغربی طاقتوں کی جانب سے عراق میں جاری پراکسی وار کا پہلا مقصد وزیراعظم نوری مالکی کی حکومت کو سرنگون کرنا ہے اور اگر یہ مقصد پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا تو پھر دوسرے مرحلے میں عراق کو تقسیم کرنا ہے۔ امریکی نائب صدر جو بائیڈن کی طرف سے عراق میں فیڈرل نظام حکومت کے قیام پر مبنی منصوبہ بھی انہیں مقاصد کے حصول کیلئے بنایا گیا ہے۔

لہذا مشرق وسطٰی میں موجود مرکزی حکومتوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک وہ مرکزی حکومتیں جو کافی حد تک سیاسی طور پر مستحکم اور مضبوط ہیں اور اپنے قومی سلامتی اور ملکی سالمیت کا بھرپور دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ حکومتیں اپنے ملک میں اٹھنے والی ہر علیحدگی پسند تحریک اور گروہ کا اچھے انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل ہیں۔ اس قسم کی حکومتوں کی واضح مثال اسلامی جمہوریہ ایران ہے۔ دوسری قسم ایسی حکومتوں کی ہے، جو کافی حد تک مضبوط اور مستحکم نہیں۔ ایسی حکومتیں بھی دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ جو امریکہ اور مغربی طاقتوں کا اتحادی ہونے کے ناطے ان کی حمایت سے برخوردار ہیں جیسے سعودی عرب۔ ایسے ممالک میں مغربی طاقتوں اور امریکہ نے فی الحال ہر قسم کی علیحدگی پسند تحریک اور شدت پسند گروہوں کی فعالیت کو کنٹرول کر رکھا ہے۔ لیکن دوسری قسم مشرق وسطٰی کی ان کم طاقتور یا کمزور حکومتوں کی ہے جو امریکہ مخالف ہیں۔ ایسے ممالک میں امریکہ اور اس کے مغربی اور عربی اتحادیوں نے بھرپور انداز میں شدت پسند دہشت گرد گروہوں کو اٹھا رکھا ہے۔ اس کی واضح مثالیں شام اور عراق کی صورت میں موجود ہیں۔ ان ممالک میں گذشتہ کئی سالوں سے امریکہ اور خطے میں اس کے پٹھو عرب ممالک تکفیری دہشت گردوں کی مکمل مدد اور حمایت کرنے میں مصروف ہیں اور وہاں کی مغرب مخالف حکومتوں کو سرنگون کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔

مختصر یہ کہ اگر مذکورہ بالا منحوس مثلث پر مبنی شیطانی حکمت عملی جاری رہتی ہے اور مشرق وسطٰی کے ممالک کی جانب سے اس کے خلاف کوئی خاطرخواہ ردعمل اور موثر اقدامات بھی سامنے نہیں آتے تو اس کا نتیجہ اسرائیل کی غاصب صہیونیستی رژیم کے حق میں مشرق وسطٰی کی تقسیم کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور خطے میں اس کے اتحادی جیسے حزب اللہ لبنان، عالمی استعماری قوتوں کی اس شیطانی حکمت عملی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند ڈٹے ہوئے ہیں۔ البتہ اس منحوس سازش کا مقابلہ کرنے کیلئے خطے کے مسلمان عوام کی ایمانی طاقت کی بھی اشد ضرورت ہے۔
خبر کا کوڈ : 403307
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب